بڑی خبر : قمر باجوہ کی مریم نواز کو دھمکی ؟

بڑی خبر : قمر باجوہ کی مریم نواز کو دھمکی ؟

اسلام آباد( مسلم لیگ (ن) کے قائد نوا شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سابق ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ملک کی سیاسی تاریخ کے اہم رازوں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ن لیگ کے تعلقات، بانی پی ٹی آئی کو راستہ دینے کے فیصلوں، اور پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال پر کھل کر بات کی۔

نجی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ ن لیگ اور جنرل باجوہ کے تعلقات کو دو مختلف ادوار کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

جنرل باجوہ سے اختلافات کا پہلا دور (2016-2017)
محمد زبیر نے انکشاف کیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو 2016ء میں آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت ملک میں پاناما اور ڈان لیکس کے معاملات زیرِ بحث تھے:

دباؤ اور ملاقات:
جنرل باجوہ نے آرمی چیف بننے کے ایک ہفتے کے اندر ہی نواز شریف سے ملاقات کی اور یہ کہا کہ مجھ پر دباؤ ہے، لہٰذا ڈان لیکس کا معاملہ کسی نہ کسی طرح ختم کیا جائے۔

دوریاں:
نواز شریف کا خیال تھا کہ یہ مسئلہ تو آرمی چیف کو حل کرنا چاہیے تھا، مگر اس ملاقات کے بعد دونوں کے درمیان دوری ہونا شروع ہو گئی۔

مریم کو چپ کرانے کا مطالبہ: محمد زبیر نے بتایا کہ وہ عینی شاہد ہیں کہ جنرل باجوہ شدید ناراض ہونا شروع ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ “مریم نواز کو چپ کرا دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔”

میڈیا سیل کا الزام:
جنرل باجوہ کہتے تھے کہ ن لیگ کا ایک میڈیا سیل ہے جہاں سے ساری پلاننگ ہوتی ہے۔ محمد زبیر نے وضاحت کی کہ وہ 2017ء میں گورنر بننے تک اس میڈیا سیل میں جاتے تھے لیکن وہاں کوئی پلاننگ نہیں ہوتی تھی۔

جنرل باجوہ کا ‘کنگ میکر’ بننے کا مقصد
سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کی ناراضگ بڑھتی جا رہی تھی اور یہ واضح تھا کہ وہ کنگ میکر بننا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، جنرل باجوہ نے نواز شریف کے خلاف فیصلے کروائے تاکہ بانی پی ٹی آئی کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ قمر باجوہ نے ان کی ملاقات فیض حمید سے بھی کروائی تھی اور دونوں اعلیٰ فوجی شخصیات اس وقت ایک ہی صفحے پر تھیں۔

فیض حمید اور بعد کی ملاقاتیں

محمد زبیر نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو دی جانے والی سزا کے حوالے سے کہا کہ انہیں درست سزا ہوئی ہے، یقیناً ان کی کوئی نہ کوئی انوالومنٹ ہوگی۔

ستمبر 2020ء میں جنرل باجوہ اور فیض حمید سے ہونے والی ملاقاتوں کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت تک جنرل باجوہ بانی پی ٹی آئی کے طریقہ کار سے ناراض محسوس ہو رہے تھے، اور دوسری میٹنگ میں فیض حمید نے بھی کھل کر ناراضی کا اظہار کیا۔ سابق گورنر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جنرل باجوہ نے اپنے بیٹے کی شادی میں خواجہ آصف سمیت لیگی رہنماؤں کو بلایا تھا، اور قمر باجوہ اور خواجہ آصف میں سیاست سے ہٹ کر بہت اچھا تعلق ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2017ء میں ایک ہاؤسنگ اسکیم میں فیض حمید کا کردار واضح تھا، اور اس وقت ان کا رینک صرف دو سٹار تھا، بعد میں انہیں ڈی جی آئی ایس آئی بنایا گیا۔

معاشی صورتحال پر کڑی تنقید
ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے محمد زبیر نے سخت تنقید کی:

تباہی کا فارمولا: ان کا کہنا تھا کہ اگر تین سال سے ایک ہی گاڑی نہیں چل رہی تو وہی فارمولا دہرانا تباہی ہو گی۔ معیشت کا تعلق براہ راست عوام سے ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انتہائی سطح پر غربت: محمد زبیر کے مطابق اس وقت غربت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور لوگوں کی قوت خرید 60 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔

انتخابات میں تاخیر: انہوں نے دعویٰ کیا کہ نگراں دور حکومت کے دورانیے میں اضافہ محض انتخابات میں تاخیر اور نواز شریف کی واپسی کے لیے کیا گیا تھا۔

اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف پروگرام کا انکشاف
سابق ترجمان نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے قریب لے جانے کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔

دیوالیہ ہونے کی وجہ: ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا تو وہ صرف اسحاق ڈار کی وجہ سے، جو ٹی وی پروگرامز پر کہتے تھے کہ ہمیں آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں۔

آئی ایم ایف کا تعطل: ستمبر 2022ء سے مئی 2023ء تک آئی ایم ایف پروگرام رکا رہا۔

شہباز شریف کی کاوش: محمد زبیر نے انکشاف کیا کہ جون 2023ء میں شہباز شریف پیرس گئے اور آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر سے ملے، جہاں انہوں نے ہاتھ جوڑ کر نیا پروگرام لیا، جس سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچا۔

اختتام پر محمد زبیر نے کہا کہ حکومت نے کسی معیار پر بھی عوام کے لیے سہولت فراہم نہیں کی، اور عوام کو تکلیف دے کر یہ کہنا کہ پاکستان بچا لیا گیا

Leave a Comment